کلام: اسعد قاسمی(00919958401915) بتاریخ 30 ستمبر 2016
گر مجھ سے محبت ہے جتا نے کے لئے آ
میں روٹھ چکا ہوں تومنانے کے لئیے آ
رہتی ہے کئی روز سے رنجیدہ صنم تو
گزری جو ترے دل پہ بتانے کے لئے آ
تکلیف سے پہنچا ہوں میں کانٹوں سے نکل کر
ایسے میں تو ہمدم نہ گرانے کے لئے آ
کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ عاشق ہوں میں تیرا
سچ کیا ہے یہ دنیا کو بتانے کے لئے آ
سویا ہی نہیں بعد جدائی کے کبھی میں
کچھ دیر صنم آج سلانے کے لئے آ
تو پچھلی عداوت کو ترے دل سے بھلا کر
الفت کے ترانے تو سنانے کے لئے آ
اپنا تو بناتی ہے سبھی کو جو ادا سے
وہ ناز و ادا مجھ کو بتانے کے لئے آ
غزلیں جو سنائی تھیں کبھی میں نے تجھے بھی
کچھ یاد اگر ہیں تو سنانے کے لئے آ
اسعد نے ترے واسطے سب کچھ ہے لٹا یا
باقی جو بچا دل ہے، چرانے کے لئیے آ .
گر مجھ سے محبت ہے جتا نے کے لئے آ
میں روٹھ چکا ہوں تومنانے کے لئیے آ
رہتی ہے کئی روز سے رنجیدہ صنم تو
گزری جو ترے دل پہ بتانے کے لئے آ
تکلیف سے پہنچا ہوں میں کانٹوں سے نکل کر
ایسے میں تو ہمدم نہ گرانے کے لئے آ
کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ عاشق ہوں میں تیرا
سچ کیا ہے یہ دنیا کو بتانے کے لئے آ
سویا ہی نہیں بعد جدائی کے کبھی میں
کچھ دیر صنم آج سلانے کے لئے آ
تو پچھلی عداوت کو ترے دل سے بھلا کر
الفت کے ترانے تو سنانے کے لئے آ
اپنا تو بناتی ہے سبھی کو جو ادا سے
وہ ناز و ادا مجھ کو بتانے کے لئے آ
غزلیں جو سنائی تھیں کبھی میں نے تجھے بھی
کچھ یاد اگر ہیں تو سنانے کے لئے آ
اسعد نے ترے واسطے سب کچھ ہے لٹا یا
باقی جو بچا دل ہے، چرانے کے لئیے آ .

0 comments :
Post a Comment