چاندنی جگمگاتی رہی رات بھر
نور اپنا لٹاتی رہی رات بھر
میری آمد کی اسکو خبر جو ہوئی
رت جگا وہ مناتی رہی رات بھر
مدتوں بعد کرکے ملاقات وہ
پیار مجھ پر لٹاتی رہی رات بھر
میں جو نکلا سفر پر سر شام ہی
ماں خدا کو مناتی رہی رات بھر
میں ہوں تیرے لئے تو مرے واسطے
یہ کہانی سنا تی رہی رات بھر
جب سے اس نے میرا تذکرہ سن لیا
نام کی رٹ لگاتی رہی رات بھر
جب بھی اسعدؔ نے اس سے سنی داستاں
نیند اسکو رلاتی رہی رات بھر

0 comments :
Post a Comment