یہ تو فانی ہے جہاں رہ کے بتائے کوئی
کام ممکن ہو تو پھر کر کے دکھائے کوئی
کوئی بے گانوں سے شکوہ ہے نہ غیروں سے گلہ
مجھ کو اپنوں کی عداوت سے بچائے کوئی
جانے کب سے وہ مرے سامنے آیا ہی نہیں
وقت آخر ہے پتہ میرا بتائے کوئی
زندگی پاک خطاؤں سے بھی ہو سکتی ہے
جاکے سجدے میں فقط اشک بہائے کوئی
کس نے گلشن کو اجاڑا اسے معلوم نہیں
ہاتھ کس کا ہے یہ مالی کو بتائے کوئی
روزوشب کر کے دعا ہم نے تمہیں مانگا ہے
درمیاں اپنی محبت کے نہ آئے کوئی
سارے احباب غزل سن کے میری بول اٹھے
کاش! اسعؔد کی طرح پڑھ کے سنائے کوئی

0 comments :
Post a Comment