جب اسکو مجھ سے کوئی بھی رغبت نہیں رہی
مجھ کو بھی اس حسیں سے محبت نہیں رہی
چھوڑا ہے جب سے ہم نے بزرگوں کا احترام
دنیا میں خود ہماری بھی عزت نہیں رہی
اک دوسرے سے ملتے ہیں مقصد کے واسطے
بے لوث، بے غرض وہ رفاقت نہیں رہی
سب خون چوستے ہیں رعایا کا آج کل
ہمدرد و غمگسار قیادت نہیں رہی
اسعدؔ جو میری ذات سے منسوب وہ ہوا
اس کو کسی رفیق کی حاجت نہیں رہی

0 comments :
Post a Comment